بیلگاوی،29؍اگست (ایس او نیوز) بیلگام کے پیرن واڈی علاقے میں رات گئے مجاہد آزادی سنگولّی راینّا کا مجسمہ نصب کرنے کے خلاف مہاراشٹرا ایکی کرن سمیتی(ایم ای ایس) کے رضاکاروں نے احتجاج کیا اور راینّا کی جگہ شیواجی کا مجسمہ نصب کرنے کی کوشش کی جس کی وجہ سے ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔ ایم ای ایس کے کارکنوں نے راینّا کے حمایتیوں اور پولیس پر پتھر اور چپل بھی پھینکنے شروع کیے تو پولیس نے لاٹھی چارج کرکے ہنگامہ کرنے والوں کو منتشر کیا۔ اس کے بعد پیرن واڈی میں حالات بہت ہی کشیدہ ہوگئے ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ سنگولی راینا کے پرستاروں نے پیرن واڈی کے متنازع مقام پر راینا کی مورتی نصب کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے شہر میں ’بیلگاوی چلو‘ریالی نکالی تھی۔ ضلع انچارج وزیر رمیش جارکیہولی نے یقین دلایا تھا کہ مورتی نصب کرنے کا مسئلہ 30اگست تک حل کردیا جائے گا۔ لیکن 28اگست کی دیر رات کو راینا کے پرستاروں نے خود ہی اس مقام پر مورتی نصب کرڈالی۔
ایم ای ایس نے کیا احتجاج:جب یہ بات معلوم ہوئی تو ایم ای ایس کے کارکنان اور مرہٹی زبان بولنے والے صبح صبح ہی سڑکوں پر اتر آئے اور احتجاجی مظاہرا کرنے لگے۔ دوسری طرف راینا کے حمایتیوں نے مورتی نصب کرنے کی خوشی میں جشن فتح منانا شروع کیا۔اس طرح دونوں فریق آمنے سامنے آجانے سے حالات انتہائی کشیدہ ہوگئے۔بگڑتی صورتحال کی خبر ملتے ہی بیلگام سٹی پولیس کمشنر ڈاکٹر کے تیاگ راج، ڈی سی پی سیما لاٹکر، اے سی پی نارائن بھرمنی، اے سی پی شیواریڈی وغیرہ اپنے عملے کے ساتھ موقع پر پہنچ گئے اور حالات کو قابو میں کرنے کی کوشش کی۔
وزیر داخلہ کا بیان:اس مسئلے پر ریاستی وزیر داخلہ بسواراج بومئی نے بتایا کہ راینا کا مجسمہ مسئلہ آپسی مفاہمت سے حل کرنے کی ہدایت وزیر اعلیٰ نے دی ہے۔ ضلع انچارج وزیر نے میٹنگ منعقد کی ہے جس میں دونوں طبقے کے افراد شریک ہوئے ہیں۔ بنگلورو سے لاء اینڈ آرڈر شعبہ سے متعلق ڈائریکٹر جنرل آف پولیس بنگلور و پہنچ گئے ہیں اور حالات کی نگرانی کررہے ہیں۔ انسپکٹر جنرل آف پولیس سے بھی اس معاملے پر گفتگو ہوئی ہے۔حفاظتی بندوبست سخت کردیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ کی یقین دہانی:قوزیر اعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا نے کہا کہ کنڑیگا اور مرہٹی جیسی تفریق بالکل نہیں ہونی چاہیے۔ پیران واڈی میں راینا کا مجسمہ نصب کرنے کے سلسلے میں متعلقہ ضلع ڈی سی کو سخت اور واضح ہدایات دی گئی ہیں۔ حالات پر امن ہیں۔ افسران نے صورت حال کو قابو میں کرلیا ہے۔
دیہی ترقی کے وزیر کے ایس ایشورپّا نے کہا کہ قومی لیڈران کے تعلق سے مرہٹی اور کنڑا کی تفریق بیچ میں نہیں آنی چاہیے۔وزیر اعلیٰ اور ضلع انچارج وزیر اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے سرگرم ہوگئے ہیں۔ راینّا کی مورتی نصب کرنے کی مخالفت کوئی بھی نہیں کررہا ہے۔ یہ مسئلہ پرامن طریقے سے حل کرلیا جائے گا۔ اس لئے عوام امن و امان بنائے رکھیں۔
سدارامیا کیا کہتے ہیں:کانگریس لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ سدارامیانے کہا ہے کہ پیرن واڈی میں راینا کی مورتی نصب کرنے کے لئے جدوجہد کرنے والوں پر پولیس کی طرف سے لاٹھی چارج کیاجانا قابل مذمت ہے۔ ضلع انچارج وزیر رمیش جارکیہولی، ڈی سی اور پولیس کمشنر وغیرہ سے میں نے بات کی ہے اور حالات کو پوری ہوشیاری سے سنبھالنے کی ہدایت دی ہے۔ ریاستی حکومت کی کوتاہی کی وجہ سے راینا کی مورتی نصب کرنے کا معاملہ متنازع ہوگیا ہے۔ کنڑا تنظیموں اور راینا کے پرستاروں کو صبر وتحمل سے کام لینا ہوگا۔
کمارا سوامی نے کہا:جنتادل ایس لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ کمارا سوامی نے کہا کہ راینا کے مجسمے کے خلاف مرہٹی زبان بولنے والوں کی طرف سے کیا گیا ہنگامہ ناقابل معافی ہے۔ ایم ای ایس، شیوسینا یا کسی اور کی طرف سے کنڑیگاس کے بہادر لیڈر راینا کی توہین کی جائے گی تو اس کو کنڑیگاس کسی بھی حالت میں برداشت نہیں کریں گے۔راینا ہماری ریاست کا وقار ہے۔ ان کی مورتی نصب کرنے کی مخالفت گویا کنڑیگاس کی خودداری پر سوال اٹھانے کے برابر ہے۔
کنڑیگاس اورمرہٹی تنازعہ:راینا کا مجسمہ نصب کرنے کی بات اب ریاستی سیاست کے علاوہ کنڑیگاس او رمرہٹی بولنے والے افراد کو مسئلہ بن کر ابھر گیا ہے۔ ایم ای ایس کے کارکنان نے ضد پکڑ رکھی ہے کہ راینا کے مجسمے کے سامنے ہی شیواجی کا مجسمہ نصب کیا جانا چاہیے۔اس مطالبے کے پس منظرمیں مجسمہ نصب کرنے کا مسئلہ کچھ پیچیدہ شکل اختیار کرگیا ہے۔